کپاس کی بحالی: پائیدار پیداوار اور مارکیٹ کی طلب کے لیے حکمت عملیاں

0
Home >News >کپاس کی بحالی: پائیدار پیداوار اور مارکیٹ کی طلب کے لیے حکمت عملیاں

غازی یونیورسٹی، ڈیرہ غازی خان میں شعبہ پلانٹ بریڈنگ اینڈ جنیٹکس کے زیر اہتمام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اشفاق احمد کی زیر صدارت کپاس کی بحالی: پائیدار پیداوار اور مارکیٹ کی طلب کے لیے حکمت عملیاں کے موضوع پر ایک معلوماتی سیمینار کا انعقاد ہوا جس میں مثالی کاشتکار سر دار جمیل الرحمن خان بزدار، پروفیسر ڈاکٹر عبدالقیوم بی زیڈ یونیورسٹی ملتان، ڈاکٹر پیر محمد ادریس بطور مہمانان اعزاز اور گیسٹ سپیکر شریک ہوئے۔ اس موقع پرمحکمہ زراعت ڈی جی خان کے آفیسران، فیکلٹی آف ایگریکلچر کے اساتذہ اور طلباء و طالبات کثیر تعداد میں موجود تھے۔
ڈاکٹر مسعود قادرلیکچرارشعبہ پلانٹ بریڈنگ اینڈ جنیٹکس نے نظامت کے فرائض سر انجام دیئے۔ پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد ہدیہ نعت رسول مقبول ﷺ پیش کیا گیا۔ چیئر پرسن شعبہ پلانٹ بریڈنگ اینڈ جنیٹکس ڈاکٹر شہزادی مہ پارہ نے تمام مہمانان اور شرکاء کو خوش آمدید کہا اور سیمینار کے اغراض و مقاصد بیان کیئے۔
گیسٹ سپیکرز نے موضوع کی مناسبت سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں کپاس کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، کیونکہ یہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کا بنیادی خام مال ہے اور لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں کپاس کی پیداوار اور معیار میں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ جس کو ہم مختلف طریقوں سے بحال کر سکتے ہیں۔ جن میں جدید زرعی طریقوں کا استعمال، کھادوں کا متوازن استعمال، بہتر اور موزوں بیج کا انتخاب، کاشتکاروں کی تربیت، حکومتی پالیسیوں میں اصلاحات شامل ہیں۔
وائس چانسلر غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان پروفیسر ڈاکٹر اشفاق احمد نے کہا کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کپاس کی پیداوار پر گہرے اثرات ڈال رہی ہے۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ ایسے بیج تیار کیئے جائیں جو موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت پیدا کرسکیں۔ آرگینک اور پائیدار کپاس کی پیداوار پر توجہ دی جائے، جو عالمی مارکیٹ میں زیادہ طلب رکھتی ہے۔ نئے ریسرچ سینٹرز کا قیام عمل میں لایا جائے، برآمدات کے فروغ کے لیے اقدامات کیئے جائیں۔
سردار جمیل الرحمن خان بزدار نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اشفاق احمد کو آفر کی کہ غازی یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلباء و طالبات کو راجن پور میں یا وسیب میں کہیں بھی زرعی تحقیق کی غرض سے جتنا رقبہ درکار ہوگا، وہ اس سلسلے میں اپنی بھرپور معاونت کریں گے۔

About the author

Web Admin

Web developer at Ghazi University, Dera Ghazi Khan
0 Responses